مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ ریپبلکن سینیٹر اور ایران مخالف سخت گیر موقف کے حامل لنڈسے گراہم 71 برس کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔
ان کے دفتر کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا کہ سینیٹر لنڈسے گراہم ہفتہ 11 جولائی کی شام مختصر اور اچانک علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
لنڈسے گراہم 2003 سے امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کی نمائندگی کرتے ہوئے سینیٹ کے رکن تھے۔ انہیں امریکہ کی قدامت پسند سیاست، امریکی فوجی پالیسیوں کی بھرپور حمایت اور اسرائیل کی مضبوط پشت پناہی کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔
انہوں نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکی فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور فوجی وکیل اور پراسیکیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں جرمنی کے رائن مائن فضائی اڈے پر بھی تعینات رہے اور پھر نیشنل گارڈ اور فضائی ریزرو میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔ تین دہائیوں سے زائد فوجی خدمات کے بعد وہ 2015 میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
گراہم نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز جنوبی کیرولائنا کی ریاستی اسمبلی سے کیا، بعد ازاں 1994 میں ایوان نمائندگان اور 2002 میں امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ 2019 سے 2021 تک سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔
سیاسی طور پر وہ بیرون ملک امریکی فوجی مداخلت کے حامی سمجھے جاتے تھے اور عراق و شام میں امریکی کردار کی حمایت کرتے رہے۔ وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بھی مضبوط حامی تھے اور ایران کے خلاف سخت پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی کے مؤید رہے۔ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سیاسی اتحادیوں میں بھی شمار ہوتے تھے۔
گراہم امریکی کانگریس میں اسرائیل کے بااثر حامیوں میں شامل تھے اور غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کی حمایت کرتے رہے۔ مئی 2024 میں غزہ جنگ کو ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں سے تشبیہ دینے اور اسرائیل کی مکمل عسکری حمایت کے مطالبے پر انہیں بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اسرائیل نے اپنے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک کو کھو دیا ہے جبکہ امریکہ ایک عظیم محب وطن سے محروم ہوگیا ہے۔ لنڈسے گراہم اسرائیل اور امریکہ کی سلامتی کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے پیغام میں گراہم کو عظیم سینیٹر اور حقیقی امریکی محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔
ادھر اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر، صدر اسحاق ہرزوگ، اپوزیشن رہنما یائر لاپید اور دیگر اسرائیلی شخصیات نے بھی گراہم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کا مضبوط حامی اور قریبی دوست قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ